نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 129

نظام نو — Page 57

دیا جائے۔اگر کبڈی تک نہیں کھیلی جاسکتی بغیر اس کے کہ جب کوئی شکست کھا جائے تو اُسے پکڑ کر بٹھا دیا جائے تو جنگیں اس کے بغیر کس طرح ختم کی جاسکتی ہیں۔پس اسلام میں کوئی غلام نہیں مگر جنگی قیدی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَا كَانَ لِنَبِيَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرِى حَتَّى يُفْحِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا صلح وَاللَّهُ يُرِيْدُ الْآخِرَةَ، وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - ط یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ یونہی لوگوں کو غلام بناتا جائے۔ان الفاظ کے ذریعہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو غلام بنا نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز نہیں بلکہ یہودیت، عیسائیت اور ہندومت کی وجہ سے جو اعتراضات اُن کے نبیوں پر عائد ہوتے تھے خدا تعالیٰ نے ان تمام اعتراضات کا بھی ازالہ کر دیا کیونکہ فرمایا مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَهُ اَسْرَى یعنی کسی نبی کے لئے بھی یہ جائز نہیں تھا کہ وہ یونہی لوگوں کو غلام بنا تا پھرتا۔پس نہ کرشن نے ایسا کیا، نہ رام چندر نے ایسا کیا۔نہ موسیٰ اور عیسی نے ایسا کیا، جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ اُن کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔ہاں فرماتا ہے کہ ایک چیز ہے جو جائز ہے وہ یہ کہ حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِثْخَانَ فِي الْأَرْض ہو تو اس وقت قیدی بنانے جائز ہوتے ہیں یعنی جنگ ہو اور ایسی شدید ہو کہ اُس میں خون کی ندیاں بہہ جائیں قوم قوم پر اور ملک ملک پر حملہ آور ہو اور شدید خونریزی ہو ایسی حالت میں بیشک قیدی بنانے جائز ہیں مگر معمولی لڑائیوں میں بھی قیدی بنانے جائز نہیں جو مثلاً خاندانوں یا افراد میں ہوتی ہیں۔تُرِيْدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا اے ہر وہ شخص جو چاہتا ہے کہ بغیر لڑائی کے لوگوں کو قیدی بنائے یا اُن کو غلام بنائے۔دوسرے الفاظ میں تو یہ چاہتا ہے کہ تجھے دنیا مل جائے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم دنیا کے طلب گار سمجھے جاؤ گے خدا تعالیٰ کے طلب گار نہیں رہو گے وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ۔حالانکہ اللہ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طلب گار بنو۔وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔اُس کے تمام احکام بڑی بڑی حکمتوں پر مشتمل ہوا کرتے ہیں۔اگر غلام بناتے رہو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ خود بھی 57