نظام نو — Page 56
دنیا سے غلامی کی بیخ کنی اول غلامی جو ہزاروں سال سے چلی آرہی تھی اُسے اسلام نے دُور کیا اور غلامی کو کلیۂ مٹا کر رکھ دیا۔میرے نزدیک دنیا کے تمام مذاہب میں سے اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے دنیا کے پردہ پر سے غلامی کو مٹایا ورنہ پہلے مذاہب میں غلامی کا رواج تھا اور اُسے کسی مذہب نے منسوخ قرار نہیں دیا۔یہودی اور ہندو مذہب کے اصول کے ماتحت تو غلامی ایک مذہبی انسٹیٹیوشن ہے اور اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔عیسائیت یہودیت کی شاخ ہے اُس میں بھی غلامی رہی اور اگر عیسائیوں میں غلامی مٹی تو اُس کے مثانے کا موجب عیسائیت نہیں بلکہ فلسفہ اخلاق کی ترقی تھی۔تاریخ کلیسیا سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کے مٹانے کے لئے عیسائی ممالک میں کئی بار کوششیں ہوئیں مگر اس کے سب سے بڑے مخالف پادری ہی تھے اسی طرح ہندو مذہب نے ورنوں کے ذریعہ غلامیت کو اتنا وسیع کر دیا کہ اس کے مقابلہ میں محدود غلامی بھی مات ہوگئی بھلا زرخرید غلام کو دوران کے غلام سے کیا نسبت؟ مگر اسلام نے اس غلامی کو سرے سے مٹادیا۔اسلام میں جنگی قیدی بنانے کے متعلق پابندیاں ہاں ایک چیز اسلام میں موجود ہے جسے لوگ غلامی قرار دیتے ہیں اور وہ چیز جنگی قیدیوں کا پکڑنا ہے مگر کیا دنیا میں کہیں بھی ایسا دستور ہے کہ جب دو قوموں میں لڑائی ہو اور دن کے دوران میں ایک دوسرے کے قیدی پکڑے جائیں اور شام کو اُن سب قیدیوں کو رہا کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ کل پھر ہم سے لڑائی کرنے کے لئے آجانا۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کبڈی کھیلتے ہیں تو اس وقت بھی جن کھلا ڑیوں کو پکڑتے ہیں چھوڑتے نہیں بلکہ پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ جنگ ہو اور جنگ کے بعد سب قیدیوں کو رہا کر 56