نظام نو — Page 58
غلام بن کر رہ جاؤ گے چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جن قوموں میں غلاموں کی کثرت ہوئی وہی قو میں آخر غلام کہلائیں۔بنو عباس کے عہد میں غلاموں کی کثرت تھی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام بادشاہ لونڈی زادے ہوا کرتے تھے۔اور چونکہ غلام میں غلامی کے خیالات ہی ہوتے ہیں اس لئے گو وہ لفظاً آزاد تھے مگر معنا غلام ہی تھے۔الحان کے معنے عربی میں ایسی جنگ کے ہوتے ہیں جس میں خطرناک خونریزی ہو۔گویا معمولی جنگ میں غلام بنانا جائز نہیں بلکہ غلام ایسی حالت میں ہی بنائے جاسکتے ہیں کہ جب شدید جنگ ہو۔معمولی لڑائیاں تو انگریزوں اور پٹھانوں کے درمیان سرحد پر ہوتی ہی رہتی ہیں مگران جنگوں میں قیدی نہیں بنائے جاتے۔پر زنر آف وار Prisoner of war) اسی وقت جائز ہوتے ہیں جب باقاعدہ ڈی کلیرڈ وار(Declared war) ہو۔معمولی شبخونوں میں ایسے قیدی بنانے جائز نہیں ہوتے۔اگر کوئی قوم اپنے لوگوں کو غلام بنانا نہیں چاہے گی تو وہ حملہ ہی کیوں کرے گی۔اور اگر حملہ کرے اور لڑائی اِثْخَانِ فِي الْأَرْضِ کی صورت اختیار کرلے تو پھر قیدی بنانا کسی صورت میں بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا جاسکتا۔اسلام کی تعلیم کہ کوئی جنگ جائز نہیں مگر دفاعی پھر جنگ کے متعلق اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ کوئی جنگ جائز نہیں مگر دفاعی۔یعنی یہ جائز نہیں کہ خود ہی دوسروں پر حملہ کر دیا جائے اور لوگوں کو غلام بنالیا جائے۔چنانچہ فرماتا ہے: أُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُه نِ الَّذِيْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُوْلُوْا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌهِ الَّذِيْنَ إِنْ مَّكَّنَّا هُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ 19 وَاتَوُا الزَّكوة وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ فرماتا 58