نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 129

نظام نو — Page 55

آیا اور کہا کہ میں اس عورت کا خاوند ہوں اور زندہ ہوں وہ عورت مجھے دلوائی جائے۔میں نے اُسے بہتیر سمجھایا کہ تو اس عورت کا خاوند نہیں ہوسکتا وہ تو مر چکا ہے اور دو گواہیاں ہمارے پاس موجود ہیں مگر وہ یہی کہتا چلا گیا کہ نہیں میں تو زندہ ہوں۔آخر میں نے کہا میں اسے مان نہیں سکتا دو معتبر گواہ موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اس عورت کا خاوندان کے سامنے مرا اور چونکہ ان گواہوں کے بیانات کے رو سے خاوند کا مرنا یقینی ہے اس لئے میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کر سکتا کہ اگر تیرا یہ دعوی سچا ہے کہ تو اس عورت کا خاوند ہے تو سرکاری خرچ پر تجھے دفن کرا دوں۔چنانچہ اسی غرض کے لئے میں نے اپنے آدمیوں کو بھجوایا ہے تا کہ وہ اُسے دفن کر دیں۔یہی حال ہندومت کا ہے کسی شخص کے پاس روپیہ جمع ہو برہمن اس سے لوٹ لے اور وہ بیچارہ عدالت میں دعوئی دائر کرے تو مجسٹریٹ کہے گا یہ بالکل جھوٹ بولتا ہے اس کے پاس روپیہ تھا کہاں وہ تو فلاں ادھیائے اور فلاں شلوک کے ماتحت برہمن کا روپیہ تھا جو اس نے لے لیا۔مگر یہ یا درکھو کہ میں یہ نہیں کہتا کہ جب ان مذاہب کی بنیاد پڑی تھی تو اُس وقت وہی تعلیم ان کے نبیوں نے دی تھی جو آج پیش کی جاتی ہے بلکہ کچھ تعلیم تو ایسی ہے جو وقتی اور قومی ہونے کی وجہ سے اُس زمانہ میں ٹھیک تھی اور اب غلط ہے اور کچھ تعلیم ایسی ہے جو ان نبیوں نے دی ہی نہیں وہ یونہی اُن کے ذمہ لگا دی گئی ہے۔بہر حال ایسی تعلیم سے موجودہ زمانہ میں کوئی امن اور چین نصیب نہیں ہوسکتا۔دوسرے مذاہب کے مقابل پر اسلام کی بے نظیر تعلیم اور اسلامی نقطہء نگاہ کے مطابق نئے نظام کا نقشہ اب میں اسلام کو لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اسلام اس مصیبت کا کیا علاج تجویز کرتا ہے؟ اسلام دنیا کی اس مصیبت اور دکھ کا علاج جسے میں نے تمہید میں بیان کیا ہے یوں فرماتا ہے۔55