نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 129

نظام نو — Page 21

انسانوں پر رہتی ہے حالانکہ حکومت اشیاء پر ہونی چاہئے مثلا کسی علاقہ میں گنا اچھا ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں حکومت کا حق ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کو حکم دے کہ اس علاقہ میں صرف گنا ہوئیں یا کسی علاقہ میں گندم بہت اچھی ہوتی ہو تو حکومت کو اختیار ہونا چاہئے کہ وہ اس علاقہ میں صرف گندم بونے کا حکم دے اور کوئی شخص گندم کے سوا اور کوئی چیز اس زمین میں نہ ہو سکے یا اگر حکومت حکم دینا چاہے کہ فلاں علاقہ میں کپاس ہوئی جائے، فلاں علاقہ میں جوار بوئی جائے تو سب لوگ اس کی تعمیل پر مجبور ہوں اور کوئی شخص خلاف ورزی نہ کر سکے۔پس چوتھے اصول کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ پیداوار کی تقسیم ہم کریں گے اور ہم فیصلہ کریں گے کہ فلاں فلاں علاقہ میں فلاں فلاں چیز بوئی جائے ، اور لوگوں کا فرض ہوگا کہ وہی چیز بوئیں۔پانچواں اُصول پانچواں اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ خالص دماغی قابلیتیں بغیر ہاتھ کے کام کے کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔وہ کہتے ہیں یہ کہنا کہ فلاں شخص کو ئی علمی بات سوچ رہا ہے بالکل لغو ہے اصل چیز ہاتھ سے کام کرنا ہے دماغی کام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ ہاتھ سے کام کریں اور اگر وہ ہاتھ سے کام نہ کریں تو بے شک بھوکے مریں ہم اُن کی مدد نہیں کریں گے۔چھٹا اُصول چھٹا اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ ہمیشہ اپنے اصول کے لئے حملہ کا پہلو اختیار کرنا چاہئے دفاع کا نہیں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بچاؤ کیا جائے بلکہ اپنے اصول کے لئے دوسروں پر حملہ کرنا چاہئے۔21