نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 129

نظام نو — Page 20

اصول کے ماتحت جائے کہ جتنی کسی کو ضرورت ہو اتنا اس کو دیا جائے۔اُسے کہا جائیگا کہ تیرے پاس چونکہ زیادہ تھا اس لئے ہم نے زیادہ لیا اور تجھے چونکہ ضرورت کم ہے اس لئے ہم تجھے کم روپیہ دیتے ہیں۔تیسرا اصول تیسرا اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ انسانی ضرورت سے زائد پیداوار پر حکومت کا حق ہے جو ملک کی عام بہتری پر خرچ ہونی چاہئے۔فرض کرو دو زمیندار ہیں اور دونوں کے پاس دس دس ایکٹر زمین ہے ان میں سے ایک نے زیادہ محنت سے کام کیا اور اس کی پیداوار میں من فی ایکڑ کے حساب سے ہو گئی مگر دوسرے کی پیدا وار صرف تین من فی ایکڑ ہوئی گویا ایک کی پیداوار ۳۰۰ من ہو گئی اور دوسرے کی صرف ۳۰ من اب فرض کرو جس کی ۳۰۰ من پیداوار ہوئی ہے اُسے صرف چالیس من پیداوار کی ضرورت ہے تو حکومت اُسے کہے گی چونکہ تمہاری پیداوار زیادہ ہوئی ہے اس لئے تم چالیس من رکھ لو اور ۲۶۰ من ہمارے قبضہ میں دید واسی طرح دوسرا شخص جس کی صرف تیں من پیداوار ہوئی ہے اُسے اگر اپنے لئے صرف دس من غلہ کافی ہوگا تو حکومت کہے گی دس من غلہ رکھ لو اور ہیں ” من ہمیں دید و پس تیسرا اصول اُن کا یہ ہے کہ جو پیداوار ضرورت سے زیادہ ہو جائے چاہے محنت سے ہو اور چاہے اتفاقیہ طور پر وہ لے لی جائے کیونکہ وہ حکومت کا حق ہے۔چوتھا اصول چوتھا اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ حکومت انسانوں پر نہیں بلکہ چیزوں پر ہونی چاہئے وہ کہتے ہیں خالی یہ قانون کافی نہیں کہ زائد پیداوار لے لی جائیگی کیونکہ اسطرح حکومت صرف 20