نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 129

نظام نو — Page 22

پہلے اصول کا نتیجہ یعنی تمام مالداروں کی جائیدادوں پر قبضہ پہلے اصول کے نتیجہ میں بالشوزم نے تمام مالداروں کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا کیونکہ انہوں نے فیصلہ کر دیا کہ جو کچھ ملتا ہے لے لو، زمینیں لے لو، جائیدادیں لے لو، اموال لے لو اور اسطرح جتنا کسی کے پاس ہو جبرا اپنے قبضہ میں کرلو۔دوسرے اصول کا نتیجہ یعنی ہاتھ سے کام کر نیوالے کو ضرورت کے مطابق سامان مہیا کرنا دوسرے اصول کے مطابق بالشوزم نے ہر ہاتھ سے کام کرنے والے کو اُس کی ضرورت کے مطابق سامان مہیا کرنے کا ذمہ لیا۔مثلاً ایک گھر کے پانچ افراد ہیں وہ فوراً فیصلہ کر دینگے کہ ان پانچ افراد کو اتنا کپڑا دے دیا جائے، اتناغلہ دے دیا جائے، اتنا ایندھن دے دیا جائے ، اسی طرح ڈاکٹر مقرر کر دئے جائیں گے جو بیماری پر اُن کا مفت علاج کریں گے۔گویا اس طریق کے مطابق ہر شخص کو پہننے کے لئے کپڑا، کھانے کے لئے غلہ اور علاج کے لئے دوامل جائیگی۔حکومت کا کام ہوگا کہ وہ لسٹیں بنائے اور افراد کی جسقد رضر ور تیں ہوں وہ پوری کر دے اور واقعہ میں اگر غور کیا جائے تو بالشوزم نے اس مشکل کو دور کر دیا ہے اور اگر اس طریق سے کام لیا جائے تو کوئی شخص بھوکا یا نگا نظر نہیں آسکتا سوائے اس کے کہ کوئی مذہبی آدمی ہو جیسے پادری وغیرہ کیونکہ اُن کے نزدیک ہاتھ سے کام کے بغیر خالص دماغی قابلیتیں کسی کام کی نہیں ہوتیں۔پس وہ پادریوں اور اسی قسم کے اور مذہبی آدمیوں یا علماء اور فلاسفروں وغیرہ کو نکتا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں انہیں اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرنا چاہئے ورنہ ان کے بھوکا رہنے کی حکومت پر ذمہ داری نہیں ہوگی۔22