نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 129

نظام نو — Page 19

ظلم کم ہوں اور اقتصادی لحاظ سے غرباء کو جو دھنیں پیش آتی رہتی ہیں ان سب کا سد باب ہو اس غرض کے لئے بالشوزم نے جو اقتصادی اصول مقرر کئے وہ مارکس کے اصول کے مطابق یوں ہیں:۔پہلا اصول اول جتنی کسی کی طاقت ہو اس سے اُتنا ہی وصول کیا جائے۔فرض کرو ایک شخص کے پاس دس ایکٹر زمین ہے اور دوسرے کے پاس منوا ایکڑ زمین ہے تو وہ یہ نہیں کریں گے کہ دس ایکٹر والے سے چند روپے لے لیں اور سوا یکڑ والے سے بھی چند روپے لے لیں بلکہ وہ دیکھیں گے کہ دس ایکڑ والے کی ضروریات کسقدر ہیں اور سو ایکڑ والے کی ضروریات رکس قدر اور پھر جس قدر زائد روپیہ ہو گا اس پر حکومت قبضہ کر لے گی مثلاً وہ دیکھیں گے کہ دس ایکڑ والا اپنی بیوی کو بھی کھلاتا ہے، بچوں کو بھی کھلاتا ہے، آپ بھی کھاتا ہے، بیلوں کو بھی کھلاتا ہے، اور پھر اتنار و پیداس کے پاس بیچ رہتا ہے تو حکومت کہے گی کہ یہ روپیہ تمہارا نہیں بلکہ ہمارا ہے اسی طرح سو یا ہزار ایکڑ والے کی ضروریات دیکھی جائیں گی اور جسقد رزائد روپیہ ہوگا حکومت اُسے اپنے قبضہ میں لے لیگی کیونکہ وہ کہتے ہیں ہمارا اصول یہی ہے کہ جتنا کسی کے پاس زائد ہواُس سے لے لو۔دوسرا اصول دوسرا اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ جتنی کسی کو ضرورت ہو اُس کو دیا جائے گویا پہلے اصول کے مطابق سو یا ہزار ایکڑ والے سے اُس کی زائد آمد وصول کر لی اور اس اصول کے مطابق جتنی کسی کوضرورت ہوئی اتنا اُسے دیدیا۔فرض کر وسوا بیکٹڑ والے سے حکومت نے پانچ ہزار روپیہ وصول کیا تھا۔مگر اُس کے گھر کے افراد دو تین ہیں تو اُسے زیادہ روپیہ نہیں دیا جائیگا بلکہ افراد کی نسبت سے دیا جائیگا کیونکہ روپیہ لیا اس اصول کے ماتحت گیا تھا کہ جتنا کسی کے پاس ہو لے لو اور دیا اس 19