نظام نو — Page 109
السلام جس نظام کو کو پیش فرماتے ہیں اس میں طوعی قربانیوں پر زور دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اس کا مال اسے واپس کر دو کیونکہ ایسا مال مردود ہے اور اس قابل نہیں کہ اسے اپنے پاس رکھا جائے۔بالشوزم کے مقابل الوصیۃ کے ذریعہ نہایت پر امن طریقہ سے مقصد کا حصول ان اصول کو مد نظر رکھ کر دیکھو کہ کس طرح وہی مقصد جسے بالشوزم نے خون میں ہاتھ رنگ کر ادھورے طور پر پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محبت اور پیار سے اس مقصد کو زیادہ مکمل طور پر پورا کر دیا ہے۔بالشوزم آخر کیا کہتی ہے؟ یہی کہ امیروں سے ان کی جائیدادیں چھین لو تا غریبوں پر خرچ کی جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی جائدادیں اسلامی منشاء کے مطابق اور اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق محبت و پیار سے لے لیں اور فرمایا کہ تم سب اپنی اپنی جائدادوں کا کم سے کم دسواں حصہ دو جو تیائی اور مساکین پر خرچ کیا جائے گا اور اشاعت اسلام کا کام اس سے لیا جائے گا۔اس وصیت کے قانون کے مطابق ہر وصیت کرنے والا احمدی اپنی جائداد کا ۱/۱۰ سے ۱/۳ حصہ اپنی مرضی سے اپنے اخروی فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام اور بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔تمام دُنیا کے احمدی ہو جانے کی صورت میں عظیم الشان انقلاب اگر ساری دنیا احمدی ہو جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ساری دنیا سے یہ مطالبہ ہو گا۔کہ خدا تعالیٰ تمہارے ایمانوں کی آزمائش کرنا چاہتا ہے اگر تم سچے مومن ہو، اگر تم جنت کے طلبگار ہو، اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی جائدادوں کا ۱/۱۰ سے ۱/۳ حصہ اسلام اور مصالح اسلام کی اشاعت کے لئے دیدو اس طرح 109