نظام نو — Page 110
ساری دنیا کی جائدادیں قومی فنڈ میں آجائیں گی اور بغیر کسی قسم کے جبر اور لڑائی کے اسلامی مرکز صرف ایک نسل میں تمام دُنیا کی جائدادوں کے ۱/۱۰ سے۳/ احصہ کا مالک بن جائیگا اور اس قومی فنڈ سے تمام غرباء کی خبر گیری کی جاسکے گی۔چند نسلوں میں ہی تمام احمدیوں کی جائدادیں نظام احمدیت کے قبضہ میں پھر یہ یا درکھو کہ وصیت صرف پہلی نسل کے لئے نہیں ہے بلکہ دوسری نسل کے لئے بھی ہے اور اُس سے بھی انہی قربانیوں کا مطالبہ ہے اور چونکہ وصیت سے دنیا کے سامنے جنت پیش کی جارہی ہے اگلی نسل اس کو لینے سے کس طرح انکار کرے گی پس دوسری نسل پھر اپنی خوشی سے بقیہ جائیداد کا ۱/۱۰ سے ۳/ احصہ قومی ضرورتوں کے لئے دیدے گی اور پھر تیسری اور پھر چوتھی نسل بھی ایسا ہی کریگی اور اس طرح چند نسلوں میں ہی احمد یوں کی جائدادیں نظام احمدیت کے قبضہ میں آجائیں گی۔فرض کر وسب دنیا احمدی ہو جائے تو اس کا نتیجہ جانتے ہو کیا نکلے گا یہی کہ چند نسلوں میں اپنی خوشی سے ساری دنیا اپنی جائدادیں قومی کاموں کے لئے دے دیگی اور اس کی انفرادیت بھی تباہ نہ ہوگی ، عائلی نظام بھی تباہ نہ ہوگا اور پھر لوگ اپنے لئے اور اپنی اولادوں کے لئے اور دولت پیدا کریں گے اور پھر اپنی خوشی سے اسکا ۱/۱۰ سے۱/۳ حصہ قومی ضرورتوں کے لئے دے دیں گے پھر یہ سارا مال چند نسلوں میں قومی فنڈ میں منتقل ہو جائیگا اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ اگر کسی شخص کے پاس سوروپے ہوں اور وہ پانچویں حصہ کی وصیت کرے تو ہمیں روپے قومی فنڈ میں آجائیں گے اور اسی روپے اس کے پاس رہیں گے جو اس کے لڑکے کو ملیں گے۔پھر مثلاً اس کا لڑکا اگر اسی روپے کے ۱/۵ حصہ کی وصیت کر دے گا تو سولہ روپے اور قومی فنڈ میں آجائیں گے گویا ۳۶ فی صدی قومی فنڈ میں آجائے گا اور ۶۴ فیصدی اس کے پاس رہ جائے گا۔پھر مثلاً اس کا لڑکا اس ۶۴ فیصدی کے پانچویں حصہ کی وصیت کرے گا تو انداز آبارہ روپے اور قومی فنڈ میں آجائیں گے گویا اڑتالیس فیصدی کی مالک حکومت ہو جائیگی 110