نظام نو — Page 108
وصیت کے اموال میں بیتا ملی ، مساکین اور کافی وجوہ معاش نہ رکھنے والے نو مسلموں کا حق پھر آپ فرماتے ہیں ان اموال میں سے ان یتیموں اور مسکینوں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے۔“ (شرط نمبر۲) پھر فرماتے ہیں ”جائز ہوگا کہ انجمن با تفاق رائے اس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ سے ترقی دے۔(ضمیمہ شرط نمبر ۹) یعنی ان اموال کے ذریعہ تجارت کرنی بھی جائز ہوگی اور تمہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ لوگوں سے ان کے اموال کا دسواں یا آٹھواں یا پانچواں یا تیسرا حصہ لو اور پھر تجارت کر کے اس مال کو بڑھا لو۔نئے نظام سے باہر رہنے والے کے لئے ایمان کا خطرہ پھر فرماتے ہیں ہر مومن کے ایمان کی آزمائش اس میں ہے کہ وہ اس نظام میں داخل ہو اور خدا تعالیٰ کے خاص فضل حاصل کرے۔صرف منافق ہی اس نظام سے باہر رہیگا۔گویا کسی پر جبر نہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس میں تمہارے ایمانوں کی آزمائش ہے اگر تم جنت لینا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم یہ قربانی کرو، ہاں اگر جنت کی قدر و قیمت تمہارے دل میں نہیں تو اپنے مال اپنے پاس رکھو ہمیں تمہارے اموال کی ضرورت نہیں۔بالشوزم اور الوصیت کے ذریعہ لئے ہوئے اموال میں ایک فرق پھر دیکھو بالشوزم لوگوں سے ان کے اموال جبراً چھیتی ہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اس کا مال اسے واپس کر دو کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور رد کرنے کے لائق ہے۔(ضمیمہ شرط نمبر ۱۲) یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے کہ دنیا جس کو پیش کرتی ہے اس میں وہ جبر لوگوں سے ان کے اموال چھیتی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ 108