نظام خلافت

by Other Authors

Page 69 of 112

نظام خلافت — Page 69

69 گئی۔۱۹۸۴ میں رسوائے زمانہ آرڈی نینس کے اجراء نے جماعت پر پابندیاں انتہائی سخت کر دیں۔خلیفہ وقت کو پاکستان سے ہجرت کرنی پڑی۔ان پر آشوب سالوں میں احمدیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اسیرانِ راہ مولیٰ نے مسکراتے ہوئے اپنی بیٹریوں کو چوما۔یہ وہ سال ہیں جب آلام و مصائب کے مہیب سائے جماعت کے سر پر منڈلاتے رہے لیکن خدائے رحیم و کریم کا احسان کہ جماعت کے سر پر خلافتِ احمدیہ کا سایہ تھا جس کی برکت سے جماعت مومنانہ استقامت کے ساتھ ان ادوار سے گزرتی گئی اور ہر خوف کی حالت امن میں تبدیل ہوتی رہی۔اسی طرح جماعتی تاریخ میں جب بھی نئی خلافت کے آغاز کا موقع آیا جو مشکل ترین عرصہ امتحان ہوتا ہے۔غم زدہ علاقی احمدیت قیامت کی سی کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں۔یتیمی کا ایک عجیب عالم ہوتا ہے ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غم سے بھرا ہوتا ہے۔مخالفین خوشی کے شادیانے بجار ہے ہوتے ہیں کہ اب یہ جماعت ختم ہو ا چاہتی ہے۔خوف کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یک بیک خدائے قادر کی تحیلی ہوتی ہے سارا غم کافور ہو جاتا ہے ہر دل امن اور سکینت سے بھر جاتا ہے۔قدرت ثانیہ کا ظہور ہوتا ہے اور جماعت کے سایہ میں پھر سے منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتی ہے ۱۹۰۸ - ۱۹۱۴ - ۱۹۶۵ - ۱۹۸۲ اور ۲۰۰۳ میں جماعت احمد یہ انہی مراحل سے گزری اور آج ہر احمدی اس بات کا زندہ گواہ ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ان کے ہر خوف کو خلافت احمدیہ کے ذریعہ امن میں بدلا اور دین اسلام کو تمکنت اور استحکام عطا فرمایا۔