نظام خلافت — Page 70
70 پس اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے کہ ہم خلافت کی برکت سے تائیدات الہیہ کے ایمان کہ افروز جلوے دن رات دیکھتے ہیں اور اللہ کرے کہ ہمیشہ دیکھتے چلے جائیں۔خلیفہ وقت کا دل۔دعاؤں کا خزینہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے وجود میں ساری جماعت کو ایک ایسا دردمند اور دعا گو وجود نصیب ہوتا ہے جو ہر دکھ درد میں ان کا سہارا اور ہر خوشی میں ان کے ساتھ برابر شریک ہوتا ہے۔یہ کیفیت دنیاوی راہنماؤں میں کہاں جن کو ان کے عوام تب یاد آتے ہیں جب انہیں ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن خلافت کے بابرکت نظام میں خلیفہ وقت اسوۂ نبوی کی اقتداء میں جماعت مومنین کے لئے ہر روز اور ہر وقت ایک رووف و رحیم باپ کی طرح ہوتا ہے۔غم کے مارے اس کے آستانہ پر آکر اپنے بوجھ ہلکے کرتے ہیں اور دعاؤں کے خزانوں سے جھولیاں بھر کر لوٹتے ہیں۔یہ ایسی نعمت ہے جو آج سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا کے کسی اور نظام میں لوگوں کو میسر نہیں۔کینیڈا کے ایک پروفیسر ڈاکٹر GUALTIER حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے پہلی بار ملنے آئے تو اس عاجز کو بھی ان سے ملنے کا موقعہ ملا اور میں نے حضور انور کی ذات کے بارہ میں چند باتیں بطور تعارف اپنے انداز میں ذکر کیں، بعد ازاں وہ حضور سے ملاقات کرنے چلے گئے۔واپس آئے تو انہوں نے اظہار کیا کہ ملاقات کے