نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 98 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 98

یعنی اے ہمارے رب! اور تو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جوان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور اس کی حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ کر دے۔یقینا تو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت فضل عمر انبیاء وخلفاء کے درج ذیل کام بیان فرماتے ہیں:۔پہلا کام:۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور اس کے جانشین خلیفہ کا پہلا کام تبلیغ الحق اور دعوت الی الخیر ہوتی ہے۔وہ سچائی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور اپنی دعوت کو دلائل اور نشانات کے ذریعے مضبوط کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ وہ تبلیغ کرتا ہے۔دوسرا کام:۔پھر دوسرا فرض نبی یا خلیفہ کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ ان کو کتاب سکھا دے۔انسان جب اس بات کو مان لے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کی طرف سے دنیا میں رسول آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ ان پر اترتے ہیں اور ان کے ذریعہ کتب الہیہ نازل ہوتی ہیں تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ اعمال کا آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو اب کیا کرنا چاہئے۔اس ضرورت کو پورا کرنے والی آسمانی شریعت ہوتی ہے اور نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان نو مسلموں کو شریعت سکھائے۔ان ہدایات اور تعلیمات پر عمل ضروری ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے رسولوں کی معرفت آتی ہیں۔پس اس موقعہ پر دوسرا فرض نبی کا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ انہیں فرائض کی تعلیم دے۔کتاب کے معنے شریعت اور فرض کے ہیں۔جیسے قرآن مجید میں یہ لفظ فرض کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ۔پس اس ترتیب کو خوب یا درکھو کہ پہلا کام اسلام میں لانے کا