نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 97 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 97

خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ خلیفہ کے اختیارات کے سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے مجلس مشاورت میں فرمایا:۔اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور آخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا ہے اور جس کی آواز آخری آواز ہے وہ خلیفہ کی آواز ہے۔کسی انجمن، کسی شوری یا کسی مجلس کی نہیں ہے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بے شک تمہارے ہاتھوں میں ہے۔تم اس کے متعلق دیکھ سکتے ہو اور غور کر سکتے ہو مگر باطنی طور پر خدا کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے ان قواعد اور اصولوں کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا اور اسے وہ عظمت حاصل ہوگی جسے اس کام کے لئے ضروری ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت منعقده ۷ را پریل ۱۹۲۵ء ص ۲۴) خلیفہ کی ذمہ داریاں خلیفہ نبی کا قائم مقام اور جانشین ہوتا ہے۔لہذا جو کام نبی کا ہوگا وہی خلیفہ کا ہوگا۔کیونکہ خلیفہ کی غرض اور مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری رکھے۔قرآن کریم کی سورۃ بقرہ آیت نمبر ۱۳۰ میں انبیاء کے کام بیان کر دئیے گئے ہیں۔اور یہی کام انبیاء کے خلفاء کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی زبان پر یہ دعا جاری کرتے ہوئے فرماتا ہے۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (بقره: ۱۳۰)