نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 99
تھا۔دوسرا ان کو شریعت سکھانے اور عامل بنانے کا۔تیسرا کام: عمل کے لئے ایک اور بات کی ضرورت ہے اس وقت تک انسان کے اندر کسی کام کے کرنے کے لئے جوش اور شوق پیدا نہیں ہوتا جب تک اسے اس کی حقیقت اور حکمت سمجھ میں نہ آجائے۔اس لئے تیسرا کام یہاں یہ بیان کیا۔وَالْحِكْمَةَ اور وہ ان کو حکمت کی تعلیم دے۔یعنی جب وہ اعمال ظاہری بجالانے لگیں تو پھر ان اعمال کی حقیقت اور حکمت سے انہیں باخبر کرے۔جیسے ایک شخص ظاہری طور پر نماز پڑھتا ہے۔نماز پڑھنے کی ہدایت اور تعلیم دینا یہ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ کے نیچے ہے اور نماز کیوں فرض کی گئی۔اس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ اس کی حقیقت سے واقف کرنا ية تعليم الحکمۃ ہے۔ان دونوں باتوں کی مثال خود قرآن شریف سے ہی دیتا ہوں۔قرآن شریف میں حکم ہے۔اَقِيْمُوا الصَّلوةَ نمازیں پڑھو۔یہ حکم تو گویا وَيُعَلِّمُهُمُ الکتب کے ماتحت ہے۔ایک جگہ یہ فرمایا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ط یعنی نماز بدیوں اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔یہ نماز کی حکمت بیان فرمائی کہ نماز کی غرض کیا ہے۔اسی طرح پھر رکوع، سجود، قیام اور قعدہ کی حکمت بتائی جائے اور خدا کے فضل سے میں یہ سب بتا سکتا ہوں۔غرض تیسرا کام نبی یا اس کے خلیفہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ احکام شریعت کی حکمت سے لوگوں کو واقف کرتا ہے۔غرض ایمان کے لئے يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایسته فرمایا۔پھر ایمان کے بعد اعمال کے لئے وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب پھر ان اعمال میں ایک جوش اور ذوق پیدا کرنے اور ان کی حقیقت بتانے کے واسطے وَالحِكْمَة فرمایا۔نماز کے متعلق میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ تمام احکام میں اللہ تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔چوتھا کام:۔پھر چوتھا کام فرمایا يزكيهم۔حکمت کی تعلیم کے بعد انہیں پاک