نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 83 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 83

۶۲ نہیں دینا چاہئے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ فورا ہی اسے بتا دوں کہ یہ تاثیر دراصل اللہ تعالیٰ نے اس بور میں رکھ دی ہے۔بور والے ہاتھ زخم پر پھیرنے سے مچھر ، بھڑ اور بچھو تک کا درد اور زہر خدا تعالیٰ کے فضل سے جلد دور ہو جاتا ہے۔عطائی اور فریب کا راس کو معجزہ کے طور پر پیش کر کے ہی جہلاء کولوٹتے ہیں۔(روز نامہ الفضل۔خلیفہ اسیح الثالث نمبر ص ۶۷) پھر جب آپ کو خدا تعالیٰ نے منصب خلافت پر متمکن فرمایا تو خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی وحدانیت پر یقین میں مزید پختگی، گہرائی اور شدت پیدا ہوتی تھی اور خدا تعالیٰ کی ہستی پہ آپ کو ایسا کامل یقین تھا کہ اس کے مقابل پر آپ کو کسی اور کو ذرہ بھر بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔چنانچہ آپ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔” خدا کی عجب شان ہے کہ جب ۱۹۷۱ء کے شروع میں گھوڑے سے گرا اور علاج کے کئی مراحل سے مجھے گزرنا پڑا تو اس سے میرے گھٹنے اکر (Stiff) گئے۔ایک ڈاکٹر صاحب مجھے کہنے لگے کہ یہ تو اب ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔میں نے کہا کہ میں نے تمہیں خدا کب مانا ہے۔میں تو اللہ کو مانتا ہوں اور اس پر بھروسہ رکھتا ہوں جو قادر مطلق ہے۔اس کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور یہ تکلیف دور ہوگئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔(روز نامہ الفضل ۲ مارچ ۱۹۸۰ء) پھر آپ اپنے رب پر بھروسہ کر کے فرماتے ہیں:۔آج میں تم کو بتا تا ہوں کہ مجھے دنیا کے کسی سہارے کی ضرورت نہیں اور اسی پر میرا تو کل ہے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس صدی میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد کا پیار قائم ہو گا۔خطاب جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء)