نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 82
บ اس کے عظیم رسول علیہ سے محبت کرتا ہوں“۔( دورہ مغرب ص ۳۴۵) اس ضمن میں محترم ثاقب زیروی صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب فرقان فورس کشمیر میں محاذ پر خدمات سرانجام دے رہا تھا تو حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کے ساتھ مجھے محاذ جنگ میں بربط کی پہاڑیوں پر جانے کا موقع ملا۔وہ کہتے ہیں کہ بھمبر سے سوکھا تالاب جاتے ہوئے راستہ میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ جو گائیڈ ہمیں راہنمائی کے لئے دیا گیا تھا وہ چلتے چلتے ایک دم ایک جگہ بیٹھ گیا اپنا دایاں ٹخنہ پکڑ کر کر کراہنے لگا۔حضور جو چند قدم پیچھے تھے فوراً بھاگ کر اس کے پاس پہنچے۔معلوم ہوا کہ اسے بچھو نے ڈس لیا ہے۔حضور نے اسے تسلی دی اور اس کے سامنے بیٹھ کر بسم اللہ اور ھوالشافی پڑھ کر اس کے ٹخنے کو سہلانے لگے۔یہ عمل کوئی دو تین منٹ جاری رہا۔اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر رونق ابھر نے لگی۔یہاں تک کہ وہ ہشاش بشاش اچھل اچھل کر کھڑا ہو گیا اور قافلہ پھر روانہ ہو پڑا۔حضور آگے آگے تھے اور ہم دونوں پیچھے پیچھے تھے کہ اس نے مجھ سے کہا کے صاحب تو بڑے کرنی والے ہیں۔یہ گفتگو آپ نے سن لی اور فور امر کر ہمارے پاس آئے اور گائیڈ سے مخاطب ہوکر فرمایا دیکھو اس میں کسی کرامت کا دخل نہیں ہے۔اگر چاہو تو میرے جیسے کرنی والے تم بھی بن سکتے ہو۔بس اتنا کیا کرو کہ جب آموں کا بور آجائے تو موسم میں اس بور کو اچھی طرح اپنے ہاتھوں میں رگڑ رگڑ کر مل لیا کرو۔اس بور کا کم از کم ایک سال بھر اثر ضرور رہتا ہے۔پھر ہنس کر فرمایا کہ ایسا کرنے کے بعد تم بھی میری طرح کے کرنی والے بن جاؤ گے۔اس وضاحت و نصیحت کے بعد جب ہم نے اپنا سفر شروع کیا تو مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ثاقب یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔شرک ہمیشہ باریک در باریک راہوں سے انسانی جذبات ومحسوسات پر وارد کرتا ہے۔اسے اس کا موقع