نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 84
۶۳ حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی ۱ جولائی ۱۹۸۰ء کو بیت فرینکفورٹ میں خطبہ جمعہ میں آپ نے فرمایا:۔”بنیادی حقیقت اس کائنات کی توحید باری تعالی ہے۔اس کو چھوڑ کر اس کو ناراض کر کے ہم کہاں جائیں گے۔انسانوں کی پرواہ نہ کرو۔انسان کی حقیقت ہی کیا ہے اور ایک ایٹم ایک ذرہ پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ہے۔اس لئے بجز خدا کے کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمیشہ مسکراتے رہو۔صرف خدا سے ڈرواور ہمیشہ اس فکر میں رہو کہ وہ کہیں ناراض نہ ہو جائے“۔( دورہ مغرب ص۱۳۴۔شائع کردہ نظارت اشاعت ولٹریچر ) پھر آپ نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بیت الذکر کے افتتاح کے موقع پر ایک نہایت ہی ایمان افروز رنگ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا: وہ اللہ ذات واحد ہے۔جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کوئی اور عبادت اور اطاعت کے لائق نہیں۔وہ عالم الغیب ہے۔وہی اپنی ذات کی حقیقی معرفت رکھتا ہے۔اس کے سوا اس کی ذات اور صفات کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ہر مشہور چیز کا بھی حقیقی علم اسی کو ہے۔اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی نگاہ میں ہے۔یہ ہے اس کے احاطہ علم کی غیر محدود وسعت۔سرمو انحراف کئے بغیر تو حید باری تعالیٰ پر صحیح رنگ میں ایمان لانا، یہ وہ عدل ہے جو ایک بندے کے لئے اپنے خالق کے بارہ میں روا رکھنا لازم ہے۔توحید باری پر ایمان کا اعلان کرنے اور پوری صحت کے ساتھ اعلان کرنے کی غرض سے ہی اللہ کا گھر تعمیر کیا جاتا ہے“۔( دوره مغرب ص ۲۲۱ ۲۲۲۔شائع کردہ نظارت اشاعت ولٹریچر ) جب ہم قدرت ثانیہ کے چوتھے مظہر کے عہد مبارک پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں توحید الہی کے قیام اور جماعت کے ذہنوں میں اس مضمون کو راسخ کرنے کے لئے