نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 450
۴۲۹ خلافت جو بلی ۱۹۳۹ء دنیا کے تقریباً مذاہب ، قوموں اور تہذیبوں میں جشن منائے جاتے ہیں ، جو بلیاں منعقد کی جاتی ہیں اور رنگارنگ طریقوں سے اپنی خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ان جشنوں اور جو بلیوں کا مقصد یا تو اپنی برتری اور دولت کا اظہار ہوتا ہے یا پھر وقتی کھیل تماشوں اور تقریبات کے انعقاد سے تفریح طبع کے سامان پیدا کرنا ہوتا ہے اور پھر ہمیشہ کے لئے ان مواقع کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نام پر قائم ہونے والی روحانی جماعتیں بھی بعض خاص مواقع پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں لیکن ان کی خوشی کا اظہار اور ان کی تقریبات وجشن پر وقار ہوتے ہیں اور ان کو منانے کے مقاصد بھی دنیا سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔روحانی جماعتوں کی خوشی کا اظہار دراصل اپنے رب کریم کے فضلوں کا شکر ادا کرنا ہوتا ہے اور تا کہ اللہ رب العزت کے اس وعدہ کہ لئن شکرتم لازیدنکم یعنی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا، کے مصداق بن سکیں۔الہی جماعتیں ان مواقع کو منا کر طاق نسیان پر نہیں رکھ دیتیں بلکہ ایک نئے ولولے سے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کر کے اس کے مزید فضلوں کو جذب کرنے کا عہد کرتے ہوئے اپنے اس روحانی سفر کانٹے سرے سے آغاز کرتی ہیں۔۱۹۳۹ء کا سال جماعت احمدیہ کے لئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال حضرت مصلح موعودؓ کے بابرکت دور خلافت پر پچیس سال پورے ہورہے تھے۔آپ کی خلافت کا آغاز ایسے حالات میں ہوا جبکہ ایک طبقہ نے حضرت خلیفہ اسیح