نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 451
۴۳۰ الاول کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ کا انکار کر دیا اور ہر طرف سے ابتلاؤں کی آندھیاں اٹھ رہی تھیں اور ہر طرف سے اندرونی و بیرونی فتنوں نے سراٹھایا اور کئی بار بہت زیادہ خطرناک حالات پیدا ہوئے مگر اس کے باوجود دنیا نے دیکھا کہ ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور جماعت کو تمکنت عطا فرمائی اور آپ کی خلافت کی ہر گھڑی نے گواہی دی کہ کہ آپ ہی وہ پسر موعود ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی تھی بلکہ آپ کے متعلق کئی پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی پیشگوئیاں موجود تھیں۔آپ کے مبارک دور خلافت نے ثابت کر دیا کہ پیشگوئی مصلح موعود کا ایک ایک حرف آپ کے وجود میں پورا ہوا۔۱۴ مارچ ۱۹۳۹ کو جب آپ کی بابرکت خلافت کو چھپیں سال مکمل ہونے والے تھے نیز اسی سال جماعت احمدیہ کے قیام پر بھی پچاس سال پورے ہو رہے تھے لہذا اس حوالے سے وہ ساعت اپنے رب کے حضور اظہار تشکر اور خوشیاں منانے کا موقع تھا۔چنانچہ اس منظر کے پیش منظر سب سے پہلے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کے دل میں ۱۹۳۹ کے سال کو جو بلی کے سال کے طور پر منانے کی تحریک پیدا ہوئی۔چنانچہ آپ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اجازت سے جلسہ سالا نہ ۱۹۳۷ء کے موقع پر حضرت مصلح موعود کی خلافت کی سلور جوبلی منانے کی تجویز پیش کی۔نیز یہ تجویز پیش کی کہ اس خوشی کے موقع پر حضور اقدس کی خدمت میں ایک ایسی رقم کا نذرانہ پیش کیا جائے جو قبل ازیں جماعت کی تاریخ میں جمع نہ کی گئی ہو اور اس رقم کو حضور جس طرح پسند فرمائیں اپنی مرضی سے خرچ کریں۔اس کے بعد ۱۹۳۹ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر خلافت جو بلی منانے سے متعلق حضور کی خدمت میں سفارشات