نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 43 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 43

۲۲ خلافت خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے۔جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کر سکتا“۔(الفضل انٹر نیشنل ۲۳ مئی تا۵ جون ۲۰۰۳ء) حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نظام خلافت کی اغراض و مقاصد تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔قرآن شریف کی تعلیم اور سلسلہ رسالت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی رسول اور نبی کو بھیجتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ ایک آدمی دنیا میں آئے اور ایک آواز دے کر واپس چلا جاوے بلکہ ہر نبی اور رسول کے وقت خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک تغیر اور انقلاب پیدا کرے جس کے لئے ظاہری اسباب کے ماتحت ایک لمبے نظام اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ ایک انسان کی عمر بہر حال محدود ہے۔صرف تخم ریزی کا کام لیتا ہے اور اس تخم ریزی کو انجام تک پہنچانے کے لئے نبی کو وفات کے بعد اس کی جماعت میں سے قابل اور اہل لوگوں میں یکے بعد دیگرے اس کے جانشین بنا کر اس کے کام کی تکمیل فرماتا ہے۔یہ جانشین اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہلاتے ہیں“۔(بحوالہ ماہنامہ خالد ربوہ مئی ۱۹۶۰ء)