نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 44
۲۳ خلافت کی ضرورت و اہمیت جماعت احمدیہ کی خوش نصیبی اور خوش بختی ہے کہ اسے خلافت جیسی عظیم نعمت حاصل ہے۔اگر جماعت احمدیہ میں نظام خلافت قائم نہ ہوتا تو آج جماعت احمدیہ کا نفوذ 185 ممالک میں نہ ہوتا۔یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ جس نے جماعت میں شیرازی بندی اور وحدت کو قائم رکھا ہوا ہے ورنہ جماعت احمد یہ بھی کئی فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہوتی۔پس خلافت تمہ نبوت ہے اس کے ذریعہ سے صحیح دین کی حفاظت ہوتی ہے دین کو تمکنت حاصل ہوتی ہے۔جماعت مومنین کی شیرازہ بندی اور اتحاد کا استحکام ہوتا ہے۔نبی کی روحانیت کا دور ممتد رہتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نظام خلافت کو قائم نہ کرے تو کہنا پڑے گا کہ قیام نبوت کا عظیم مقصد ناقص اور نا تمام رہ گیا۔اس لئے شرعاً اور عقلاً بھی نبوت کے بعد خلافت کا ہونا لازمی ہے۔خلافت کی ضرورت واہمیت کا اندازہ ذیل کے حوالہ جات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں خلافت کی نعمت سے محروم جماعتوں و تحریکوں کے عمائدین وسر براہان و دانشوروں نے خلافت کی ضرورت کا ایسے ہی کھل کر اظہار کیا ہے جس طرح خشک سالی میں باران رحمت کا انتظار کیا جاتا ہے۔ا۔حضرت سید اسمعیل شہید خلافت کی جستجو اور اس نعمت کے لئے دعا کرنے کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں۔نزول نعمت الہی یعنی ظہور خلافت راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہئے