نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 42
۲۱ نہ رہے۔شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۵۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک موقع پر سوال کیا گیا کہ خلیفہ آنے کا مدعا کیا ہے۔آپ نے فرمایا:۔اصلاح۔دیکھو حضرت آدم سے اس نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد جب انسانوں کی عملی حالتیں کمزور ہو گئیں اور انسان زندگی کے اصل مدعا اور خدا کی کتاب کی اصل غایت بھول کر ہدایت کی راہ سے دور جا پڑے تو پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت کی اور ضلالت کے گڑھے سے نکالا۔شان کبریائی نے جلوہ دکھایا اور ایک شمع کی طرح نور معرفت دنیا میں دوبارہ قائم کیا گیا۔ایمان کونو رانی اور روشنی والا ایمان بنادیا۔غرض اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی سنت چلی آتی ہے کہ ایک زمانہ گزرنے پر جب پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول کر راہ راست اور متاع ایمان اور نور معرفت کو کھو بیٹھتے ہیں اور دنیا میں ظلمت اور گمراہی ،فسق و فجور کا چاروں طرف سے خطرناک اندھیرا ہو جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی صفات جوش مارتی ہیں اور ایک بڑے عظیم الشان انسان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا نام اور تو حید اور اخلاق فاضلہ پھر نئے سرے سے دنیا میں اس کی معرفت قائم کر کے خدا تعالیٰ کی ہستی کے بین ثبوت ہزاروں نشانوں سے دیئے جاتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ کھویا ہوا عرفان اور گمشدہ تقوی طہارت دنیا میں قائم کی جاتی ہے اور ایک عظیم الشان انقلاب واقع ہوتا ہے۔غرض اسی سنت قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔،، (ملفوظات جلد پنجم نیا ایڈیشن ۵۶۱۵۶۰) حضرت خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے قیام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔