نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 370 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 370

۳۴۹ عبداللطیف صاحب بیگم پوری، مولوی محمد حیات صاحب تا شیر، مولوی علی محمد صاحب اجمیری، اللہ رکھا صاحب آف گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ زیادہ نمایاں تھے۔چنانچہ مذکورہ بالا افراد کی سرگرمیاں جب منظر عام پر آگئیں اور ان میں تیزی آگئی تو اس صورتحال کے پیش نظر متعدد جماعتوں نے حضور کی خدمت میں مذکورہ بالا افراد کو نظام جماعت سے اخراج کی درخواست کی جس کے نتیجہ میں اکتوبر ۱۹۵۶ء کو ان تمام افراد کو نظام جماعت سے خارج کر دیا گیا۔جس کے بعد تقریباً یہ سب لوگ پیغامیوں کے ساتھ جاملے اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ ان کی پشت پناہی غیر مبائعین پیغامی ہی کر رہے تھے۔بالآخر حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۶ء کو جلسہ سالانہ پر تقریر کر کے اس فتنہ کو بے نقاب کیا اور ان کی تمام کارروائیوں اور سرگرمیوں کا پردہ چاک فرما دیا اور ان کے تمام الزامات کے مفصل جوابات دئیے۔( تاریخ احمدیت جلد ۱۹) فتنہ کے متعلق ۱۹۵۰ء کا ایک اہم رویا اس فتنہ کا ظہور بھی خلافت ثانیہ کی حقانیت کا ایک چمکتا نشان تھا۔وجہ یہ کہ اس کے ظہور سے ساڑھے چھ سال قبل حضرت مصلح موعود کو بذریعہ رویا اس کی قبل از وقت خبر دے دی گئی تھی اور ۲۷ جون ۱۹۵۰ء کو حضور نے احباب جماعت کے سامنے حسب ذیل الفاظ میں اسے پوری شرح وبسط سے بیان بھی فرما دیا تھا کہ:۔میں نے دیکھا کہ ایک اشتہار ہے جو کسی شخص نے لکھا ہے جو شخص مجھے خواب کے بعد یا درہا ہے مگر میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ اشتہار ہمارے کسی رشتہ دار نے دیا ہے۔مگر اس کی رشتہ داری میری بیویوں کے ذریعہ سے ہے۔اس اشتہار میں میرے بعض بچوں کے متعلق تعریفی الفاظ ہیں۔اور ان کی