نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 371 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 371

۳۵۰ بڑائی کا اس میں ذکر کیا گیا ہے میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض ایک چالا کی ہے۔در حقیقت اس کی غرض جماعت میں فتنہ پیدا کرنا ہے اگر کوئی غیر کی تعریف کرے تو مخاطب سمجھتا ہے کہ جماعت میں فتنہ پیدا کیا جارہا ہے اور اس میں اس کو روکنے کی کوشش کروں گا۔لیکن اگر میرے بعض بچوں کا نام لے کر ان کی تعریف کی جائے تو تعریف کرنے والا یہ سمجھتا کہ اس طرح میری توجہ اس کے فتنہ کی طرف نہیں پھرے گی اور میں یہ کہوں گا کہ اس میں تو میرے بیٹوں کی تعریف کی گئی ہے اس میں فتنہ کی کون سی بات ہے اسی نقطہ نگاہ سے اس نے اشتہار میں میرے بعض بیٹوں کی تعریف کی ہے لیکن رویا میں میں کہتا ہوں کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا۔چاہے تم کتنے ہی چکر دے کر بات کرو۔ظاہر ہے کہ تم جماعت میں اس سے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو اور تمہاری غرض یہ ہے کہ میں بھی دنیا داروں کی طرح اپنے بیٹوں کی تعریف سن کر خوش ہو جاؤں گا اور اصل بات کی طرف میری توجہ نہیں پھرے گی۔پس رویا میں میں نے اس اشتہار پر اظہار نفرت کیا اور میں نے کہا کہ میں اس قسم کی باتوں کو پسند نہیں کرتا۔مجھے وہ بیٹے بھی معلوم ہیں جن کا نام لے کر اس نے تعریف کی ہے اور مجھے لکھنے والا بھی معلوم ہے۔لیکن میں کسی کا نام نہیں لیتا۔تاریخ احمدیت جلد ۱۹ص۵۳- از مولانا دوست محمد شاہد صاحب) یہ ایک نہایت پر اسرار اور حقیقت افروز خواب تھی جس کے لفظ لفظ پر ۱۹۵۶ء کے واقعات نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے بیٹے مرزا ناصر احمد صاحب کو آئندہ خلیفہ بنانے کے الزام کا رد کرتے ہوئے فرمایا:۔مجھ پر یہ بہتان لگایا گیا ہے کہ گویا میں اپنے بعد اپنے کسی بیٹے کوخلیفہ بنانا چاہتا