نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 369
۳۴۸ دینی لحاظ سے ان کی اس تجویز اور سازش کوکوئی اہمیت نہ دی گئی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آہستہ آہستہ صحت یاب ہونا شروع کر دیا۔جس سے بھی یہ مسئلہ دب گیا۔مگر اندرون خانہ ان لوگوں نے خلافت کی تبدیلی کے لئے بیان بازیاں اور کوششیں اور سازشیں جاری رکھیں۔۱۹۵۵ء میں الہی پروگرام اور تصرف سے حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو صدر صدرانجمن احمد یہ مقرر فرما دیا جس سے مولوی عبد المنان عمر صاحب کی خلیفہ بننے کی امید موہوم ہونا شروع ہوگئی۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ خلافت کے بعد سب سے بڑا عہدہ صدرصد رانجمن احمدیہ کا ہے۔لہذا اس عہدہ پر فائز ہو جانے کی وجہ سے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جماعت کی نظروں میں اہمیت اختیار کر جائیں گے اور آئندہ ان کے خلیفہ بنے کے چانس بڑھ جائیں گے۔چنانچہ ان لوگوں نے جگہ جگہ اس قسم کا پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے ان کو متعددا ہم عہدوں پر فائز کر دیا ہے تا کہ ان کی خلافت کی راہ ہموار ہو جائے۔پہلے تو ان لوگوں نے اندرون خانہ قدرے احتیاط سے اس قسم کا پروپیگنڈا شروع کر رکھا تھا۔مگر ۱۹۵۶ء میں ان لوگوں نے برسر عام بیان بازی شروع کر دی اور خلافت کے خلاف بدزبانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔مولوی عبدالمنان عمر صاحب اور مولوی عبدالوہاب عمر صاحب کے علاوہ ان کے حواریوں اور آلہ کاروں میں چوہدری غلام رسول صاحب آف چک پینتیس ، چوہدری عبدالحمید ڈاڈھا صاحب، ملک فیض الرحمن فیضی صاحب، ملک عزیز الرحمن صاحب، ملک عطاء الرحمان صاحب راحت، راجہ بشیر احمد رازی صاحب، محمد یونس صاحب مولوی فاضل آف گوجرانوالہ، چوہدری