نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 368
۳۴۷ اور غیر مبائعین کا چڑھنے والا ہر دن ان کی کمزوری اور خاتمے پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر غیر مبائعین نے جماعت مبائعین کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت مصلح موعودؓ کے مد مقابل کئی افراد کو خلیفہ تسلیم کر لینے کا لالچ دیا اور فخر الدین ملتانی ، مولوی عبدالرحمن مصری اور اللہ رکھا جیسے کئی کمزور ایمانوں کو جماعت کے خلاف استعمال کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا۔مگر افسوس کہ جس عظیم اور بابرکت وجود کے ذریعہ سے خلافت احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔انہی کی اولاد میں سے اس فتنہ نے ایک بار پھر سر نکالا۔جس کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ حضرت خلیفہ ابیع الاول کے ایک صاحبزادے مولوی عبدالمنان عمر صاحب حضرت خلیفتہ اسی الاول کا بیٹا ہونے نیز اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے غرور میں آئندہ اپنے آپ کو خلیفہ اسیح کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ان کے ان مذموم عزائم اور ارادوں کی تائید انہیں اپنے بڑے بھائی مولوی عبدالوہاب عمر صاحب کی بھی حاصل تھی اور ان صاحبزادگان کے زیر اثر و مفاد پرست بعض اور افراد بھی ان کے ہمنوا اور ہم پیالہ و ہمنوا تھے۔یہ لوگ حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے انتظار میں جماعت کے ساتھ وابستگی قائم رکھے ہوئے تھے۔مگر زیادہ صبر کرنا بھی ان لوگوں کے لئے مشکل تھا۔لہذا۱۹۵۴ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ پر بیت مبارک میں چاقو سے حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں آپ کی صحت غیر معمولی طور پر متاثر ہوئی۔اور بہت زیادہ کمزوری ہوگئی تو ان لوگوں نے حضرت مصلح موعود کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے ”عزل خلافت“ کا مسئلہ اٹھایا اور مختلف مجالس میں اس طرح کا اظہار شروع کر دیا کہ اگر کوئی خلیفہ اپنی کسی بیماری یا کسی اور وجہ سے خلافت کی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے قابل نہ رہے تو اسے خلافت سے الگ کر کے کسی نئے خلیفہ وقت کا تقرر ہو جانا چاہئے۔مگر شرعی اور