نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 367
۳۴۶ فتنہ خلافت ۱۹۵۶ء جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جاچکا ہے کہ خلافت احمدیہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ فتنہ خلافت ۱۹۱۴ء میں خلافت ثانیہ کے انتخاب پر اٹھا۔جس کے محرک جماعت کے بعض مغربی تعلیم یافتہ اور جمہوریت پسند افراد تھے۔انہوں نے نظام خلافت کو ختم کر کے انجمن احمدیہ کو جماعتی معاملات کی نگرانی و راہنمائی پر زور دیا۔لیکن ان کی یہ سوچ چونکہ دینی روح اور منشاء الہی کے خلاف تھی۔لہذا خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو بطور خلیفہ اسیح الثانی بنا کر اور ان کی غیر معمولی تائید ونصرت فرما کر اپنی فعلی شہادت سے مخالفین خلافت کے نظریہ کور د کر دیا۔جب نظام خلافت کی مخالفت کرنے والے گروہ کی منشاء اور خواہش کے خلاف حضرت مصلح موعود کا بطور خلیفہ اسیح الثانی انتخاب ہو گیا تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔اور اس فتنہ کے مدارالمہام مولوی محمد علی صاحب کی قیادت میں اپنی الگ جماعت قائم کر کے لاہور میں اپنا مرکز قائم کرلیا۔جماعت احمدیہ کی تاریخ اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے خلافت کا انکار کیا ان کا سفر دن بدن پستی اور انحطاط کی طرف جاری رہا اور اس کے بالمقابل نظام خلافت کی برکت سے حضرت مصلح موعود کی قیادت میں قائم ہونے والی جماعت دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی رہی اور جماعت مبائعین دنیا کے کناروں تک پھیل گئی اور آج خدا کے فضل سے اسی خلافت کی برکت سے جماعت احمد یہ دنیا کے ۱۸۵ ممالک میں مضبوطی کے ساتھ قائم ہو چکی ہے اور اس کے بالمقابل پیغامیوں۔