نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 366 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 366

۳۴۵ وہ میں اب کسی صورت میں اتار نہیں سکتا۔مگر افسوس کہ منکرین خلافت کا پراپیگنڈا ایسی نوعیت اختیار کر چکا تھا کہ ان پر کسی دلیل کا اثر نہیں ہوا اور بظاہر حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے خلافت کے خلاف اپنی خفیہ کارروائیوں کو جاری رکھا۔لیکن حضرت خلیفہ اول کی تقریروں سے ایک عظیم الشان فائدہ ضرور ہو گیا اور وہ یہ کہ جماعت کا کثیر حصہ خلافت کی اہمیت اور اس کی برکات اور اس کے خدا داد منصب کو اچھی طرح سمجھ گیا اور ان گم گشتگان راہ کے ساتھ ایک نہایت قلیل حصہ کے سوا اور کوئی نہ رہا اور جب ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی تو بعد کے حالات نے بتا دیا کہ حضرت خلیفہ اول کی مسلسل اور ان تھک کوششوں نے جماعت کو ایک خطرناک گڑھے میں گرنے سے محفوظ کر رکھا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کا یہ ایسا جلیل القدر کارنامہ ہے کہ اگر اس کے سوا آپ کے عہد میں کوئی اور بات نہ بھی ہوتی تو پھر بھی اس کی شان میں فرق نہ آتا۔خلافت کے سوال کے علاوہ منکرین خلافت نے جماعت میں آہستہ آہستہ یہ سوال بھی پیدا کر دیا تھا کہ کیا حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے؟ اور کیا حضرت مسیح موعود نے واقعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اچھا تو ہے مگر ضروری نہیں اور ایک مسلمان آپ پر ایمان لانے کے بغیر بھی نجات پاسکتا ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف مجددیت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا تھا۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ ص ۳۱۱ تا ۴ ۳۱ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے)