نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 365
۳۴۴ بعد گویا منکرین خلافت کی پالیسی نے دہرا رخ اختیار کر لیا۔اول یہ کہ انہوں نے اس بات کا پراپیگینڈا جاری رکھا کہ جماعت میں اصل چیز انجمن ہے نہ کہ خلافت۔دوم یہ کہ انہوں نے ہر رنگ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نیچا کرنے اور جماعت میں بدنام کرنے کا طریق اختیار کر لیا تا کہ اگر جماعت خلافت کے انکار کے لئے تیار نہ ہوتو کم از کم وہ خلیفہ نہ بن سکیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بار بار حلف اٹھا کر کہا کہ میرے وہم وگمان میں بھی خلیفہ بنے کا خیال نہیں ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے آئندہ خلیفہ کا ذکر کرنا ہی ناجائز اور خلاف تعلیم اسلام ہے۔پس خدا کے لئے اس قسم کے ذاتی سوالات کو اٹھا کر جماعت کی فضا کو مزید مکدر نہ کرو مگران خدا کے بندوں نے ایک نہ سنی اور حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے اس دہرے پراپیگنڈے کو جاری رکھا۔بلکہ حضرت خلیفہ اول کے خلاف بھی اپنے خفیہ طعنوں کے سلسلہ کو چلاتے چلے گئے۔اس عرصہ میں حضرت خلیفہ اول نے بھی متعدد موقعوں پر خلافت کی تائید میں تقریریں فرمائیں اور طرح طرح سے جماعت کو سمجھایا کہ خلافت ایک نہایت ہی با برکت نظام ہے جسے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ اس نظام کے ذریعہ نبی کے کام کو مکمل فرمایا کرتا ہے اور ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی رہی ہے اور حضرت مسح موعودؓ نے بھی اپنے بعد خلافت کا وعدہ فرمایا تھا اور یہ کہ گو بظاہر خلیفہ کا تقررمومنوں کے انتخاب سے ہوتا ہے مگر دراصل اسلامی تعلیم کے ماتحت خلیفہ خدا بنا تا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اب جب سلسلہ احمدیہ میں خلافت کا نظام عملاً قائم ہو چکا ہے اور تم ایک ہاتھ پر بیعت کر چکے ہو تو اب تم میں یا کسی اور میں یہ طاقت نہیں ہے کہ خدا کی مشیت کے رستے میں حائل ہو اور فرمایا کہ جو قمیص مجھے خدا نے پہنائی ہے