نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 34 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 34

۱۳ خلیفہ کے لئے امیر المومنین کے لفظ کا استعمال امیر المومنین، یہ لقب سب سے پہلے حضرت عمر بن الخطاب نے خلیفہ منتخب ہونے پر اختیار فرمایا ( مقدمہ ابن خلدون طبع دانی ۲: ۵۷۸ سعد ) ”امیر“ سے مراد وہ شخص ہے جسے ”امر“ یعنی حکم یا قیادت تفویض کی جائے۔اور اس عام مفہوم کے مطابق اسے کلمہ المومنین کی طرف مضاف کر کے اس سے وہ امیر مراد لئے جاتے تھے جنہیں آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور آپ کے بعد مختلف اسلامی مہموں کی قیادت سپرد کی گئی، جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص کو ”امیر“ کہا گیا۔وہ جنگ قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف اسلامی افواج کے قائد تھے، لیکن حضرت عمر نے جو اپنے لئے ” امیر المومنین کا قلب اختیا کیا تو گمان غالب ہے کہ یہ قرآن مجید کے تابع ہوگا، صلى الله ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ، اس کے رسول علے اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو (النساء: ۸۵)۔عہد فاروقی سے خاتمہ خلافت تک یعنی امیر المومنین کا اعزازی لقب صرف خلفاء کے لئے مخصوص رہا۔اگر کوئی بادشاہ اسے اختیار کر لیتا تھا تو اس سے یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ مدعی منصب خلافت بھی ہے۔خواہ خلافت کے عام مفہوم میں ، جیسے بنوامیہ، بنو عباس اور فاطمی خلفاء تھے، یا مستقل اسلامی حکومت کے معنی ہیں۔جیسے اندلس میں ۳۱۶ھ/ ۹۲۸ء سے بنو امیہ تھے۔یا المغرب میں بنو مؤمن۔اء ۱۲۵۸/۵۶۵۶ء میں جب عباسی خلافت ختم ہوگئی تو مصر کے مملوک سلاطین نے قلیل عرصے کے لئے اسے خلافت مطلقہ کی حیثیت سے تسلیم کر لیا، یہاں تک کہ قاہرہ میں خود انہوں نے عباسی خلفاء کا ایک جدید سلسلہ قائم کر لیا۔المغرب میں بنو حفص کا دعویٰ قائم کر لیا۔المغرب میں بنو حفص کا دعویٰ بنومرین نے تسلیم نہیں کیا اور آٹھویں صدی