نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 35 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 35

۱۴ ہجری / چودھویں صدی عیسوی میں اپنے لئے امیر المومنین کا لقب اختیار کر لیا۔بعد کے تمام مراکشی شاہی خاندانوں نے بھی ان کا تتبع کیا۔شیعوں کا فرقہ امامیہ امیر المومنین کا لقب صرف حضرت علی بن ابی طالب سے مخصوص سمجھتا ہے۔اسماعیلیوں کا ہر فرقہ اسے اپنے اپنے مسلمہ خلفاء کے لئے استعمال کرتا ہے۔زیدی شیعوں کے نزدیک ہر وہ علوی جو بزور شمشیر اپنے اقتدار کومنوالے خود کو امیر المومنین کہلو اسکتا ہے، مثلاً یمن کے زیدی امام۔لفظ امیر المومنین کا استعمال خوارج کے ہاں تاہرت کے رستمیوں کے سوا بہت شاذ ہے۔کبھی کبھی اس اصطلاح کا اطلاق کسی نسبت سے مجاز البعض بڑے بڑے علماء پر بھی کیا گیا ہے، مثلاً مشہور محدث شعبہ بن الحجاج کو امیر المومنین فی الراویہ کہا گیا (ابو نعیم : حلیہ الاولیاء ۱۴۴۰۷)، اسی طرح مشہور نحوی ابو حیان غرناطی کو امیر المومنین فی النحو" ( المقری، نفح الطيب ، ص ۸۲۶) (مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیه زیرا نظام دانش گاہ پنجاب لاہور، شعبہ پنجاب یونیورسٹی لا ہور۱۹۹۷ء)