نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 292
۲۷۱ قومی وملی خدمات حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایک مذہبی جماعت کے لیڈر تھے۔اس لئے آپ ملک کے سیاسی معاملات میں حصہ لینا پسند نہیں کرتے تھے۔لیکن چونکہ آپ کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت ہی ہمدردی تھی اور ملکی معاملات کا مسلمانوں پر بھی اثر پڑتا تھا۔اس لئے آپ نے کئی نازک اور ضروری مواقع پر بڑی عمدگی کے ساتھ مسلمانوں کی راہنمائی اور مدد کی مثلاً ۱)۱۹۲۱ء میں مسلمانوں میں تحریک ہجرت شروع ہوئی بعض مسلمان لیڈروں نے یہ تحریک کی کہ چونکہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ہے جو کہ کافر ہیں اس لئے اس ملک سے ہجرت کر کے مسلمانوں کو افغانستان چلے جانا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ یہ تحریک ناکام ہوگی اور یہ مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ تحریک نا کام ہوگئی اور ہجرت کرنے والے سخت نقصان اٹھا کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔۲) ہندوؤں کی طرف سے متواتر ایسی کتابیں شائع ہوتی رہتی تھیں جن میں آنحضرت ﷺ کی شان میں سخت تو ہین کی جاتی تھی اور مسلمانوں کے دل دکھائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ سے کئی جگہ ہندو مسلم فساد بھی ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک ایسا قانون بنوانے کی کوشش کی جس سے کوئی شخص مذہبی پیشواؤں کی بے عزتی نہ کر سکے۔چنانچہ حضور کی کوشش سے حکومت نے ایک ایسا قانون بنایا جس میں مذہبی پیشواؤں کی عزت کی حفاظت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔) ہندو ملک میں ہر جگہ چھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے مسلمان نقصان