نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 291
۲۷۰ روحانیات کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت افروز کتب لکھیں اور آپ ہی کے عقدہ کشا قلم نے عمرانیات، سیاسیات اور اقتصادیات کے پیچیدہ مسائل کی گر ہیں بھی کھولی ہیں۔آپ شاعر اور ادیب بھی تھے اور مترجم ومفسر قرآن بھی۔نیز آپ اعلیٰ درجہ کے مقر ر اور خطیب تھے۔آپ کی تقریریں اور خطبات بھی منظم و مرتب کتابوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔حضرت مصلح موعود کی زندہ جاوید اور دلآویز تصانیف سرچشمہ علم وعرفان ہیں۔جو موجودہ و آئندہ نسلوں کے لئے قیامت تک مشعل راہ کا کام دیں گی۔حضور خود فرماتے ہیں:۔وو ” وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئلہ نبوت ، مسئلہ کفر، مسئلہ خلافت، مسئله تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرے وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت کی توفیق دی۔خلافت را شده ص ۲۵۵،۲۵۴) ذیل میں صرف نمونہ کے طور پر حضور کی صرف چند کتب کے نام پیش ہیں:۔ا تفسیر کبیر، ۲ تفسیر صغیر، ۳۔دعوۃ الامیر، ۴ تحفۃ الملوک، ۵۔حقیقۃ النبوة، ۶۔سیر روحانی، ۷۔انقلاب حقیقی ، ۸ - فضائل القرآن، ۹۔پیغام احمدیت، ۱۰۔کلام محمود، ۱۱۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام ،۱۲۔ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل، ۱۳۔ہستی باری تعالی ، ۱۴۔ملا نگتے ،اللہ ، ۱۵- Introduction to the study of Invitation to Ahmadiyyat - Holy Quran ، ۱۷۔تقدیر الہی، ۱۸۔خلافت را شده ،۱۹۔نظام نو ۲۰۰۔اسلام کا اقتصادی نظام،۲۱۔عرفان الہی۔