نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 293
۲۷۲ اٹھاتے تھے۔پھر مسلمانوں میں باہمی اختلاف بھی بہت تھے جن کی وجہ سے وہ متحد ہو کر ہندوؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ دیکھا تو مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور یہ تجویز پیش کی کہ خواہ عقائد کے لحاظ سے مسلمانوں میں آپس میں کتنا ہی اختلاف ہو لیکن سیاسی میدان میں جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اسے سیاسی لحاظ سے مسلمان ہی سمجھنا چاہئے اور سب کو متحد ہو کر ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔۴) ۱۹۲۸ء میں آپ نے سیرۃ النبی کے جلسوں کی تحریک فرمائی یعنی سال میں ایک بار کوئی تاریخ مقرر کر کے اس میں جلسے کرنے کا پروگرام بنایا گیا ان جلسوں میں آنحضرت ﷺ کی سیرت پر مسلمانوں سے اور شریف غیر مسلموں سے تقریریں کرائی گئیں۔یہ تحریک بہت بابرکت ثابت ہوئی اس کی وجہ سے کئی غیر مسلموں کے دلوں میں جو تعصب تھا وہ دور ہو گیا۔اور انہیں آنحضرت کی سیرت کا علم ہو کر آپ کے ساتھ عقیدت پیدا ہوئی۔۵) ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۱ء تک انگریزوں کی حکومت نے ہندوستان کے آئین میں تبدیلیاں کرنے اور حکومت میں ہندوستانیوں کو شریک کرنے کے سلسلہ میں کئی کوششیں کیں۔اس سلسلہ میں کئی کا نفرنسیں ہوئیں جن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے نمائندوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔کئی کتابیں لکھیں ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل وغیرہ۔چنانچہ مسلمان نمائندوں نے جن میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔حضور کی ہدایت اور تجویزوں سے بہت فائدہ اٹھایا اور کئی خطروں سے مسلمانوں کو محفوظ کر لیا۔۶) کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے مگر وہاں ایک غیر مسلم راجہ کی