نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 290 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 290

۲۶۹ تصانیف حضرت خلیفہ امسیح الثانی پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کے بارہ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“۔حضرت مصلح موعودؓ کے بارہ میں پیشگوئی کے یہ حصے بھی اپنی کمال شان سے پورے ہوئے۔آپ کی غیر معمولی زہانت ، فراست اور ظاہری و باطنی علوم کی وسعت کا غیر بھی اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ جب حضور نے ۱۹۲۴ء میں یورپ کا سفر اختیار کیا تو اس سفر کے دوران دمشق کے قیام کے موقع پر اخبار العمران“ نے اپنی ۱۰ را گست ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں بعنوان ” مہدی دمشق میں لکھا جس کا ترجمہ یہ ہے ”جناب احمد قادیانی صاحب ہندوستان میں مہدی کے خلیفہ اپنے بڑے بڑے مصاحبین سمیت جو آپ کی جماعت کے بعض بڑے بڑے علماء ہیں درالخلافہ میں تشریف لائے۔ابھی آپ کے دارالخلافہ میں تشریف لانے کی خبر شائع ہی ہوئی تھی کہ بہت سے علماء و فضلاء آپ کے ساتھ گفتگو کرنے اور آپ کی دعوت کے متعلق آپ سے مناظر و مباحثہ کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں پہنچ گئے۔اور انہوں نے آپ کو نہایت عمیق ریسرچ رکھنے والا عالم اور سب مذاہب اور ان کی تاریخ و فلسفہ کا گہرا مطالعہ رکھنے والا شریعت الہیہ کی حکمت و فلسفہ سے واقف شخصیت پایا“۔حضرت مصلح موعودؓ کی تالیف و تصنیفات کی تعداد تقریباً اڑھائی صد ہے۔جن کی تفصیل سوانح فضل عمر کی جلد ۴ ص ۴۷۲ تا ۴۹۶ پر دیکھی جاسکتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیفات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔آپ نے اخلاقیات اور