نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 212 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 212

۱۹۱ بالا وصیت کے مطابق ضرور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت احمدیہ میں قدرت ثانیہ کے رنگ میں نظام خلافت جاری ہوتا۔جو خدا کے فضل سے مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء سے جاری ہے جس کی برکت سے جماعت احمدیہ آج دنیا کے ۱۹۳ ممالک میں نفوذ کر چکی ہے اور رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ منشاء الہی کے مطابق اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔خلافت راشدہ اور خلافت احمدیہ میں مماثلت حضرت شاہ اسمعیل شہید اپنی کتاب ”منصب امامت“ میں خلافت راشدہ کی تعریف اور وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” خلیفہ راشد وہ شخص ہے جو منصب امامت رکھتا ہو اور سیاست ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں۔جو اس منصب تک پہنچاوہی خلیفہ راشد ہے۔خواہ زمانہ سابق میں ظاہر ہوا خواہ موجودہ زمانے میں ہو۔خواہ اوائل امت میں ہو خواہ اس کے آخر میں اور اسی طرح یہ بھی نہ سمجھ لینا چاہئے کہ لفظ ” خلفائے راشد خلفائے اربعہ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے انہی لوگوں کی ذات متصور ہوتی ہے۔منصب امامت ص ۱۳۷۔ایڈیشن دوم نقوش پریس لاہور ) پس اس تعریف کی رو سے خلافت احمد یہ بھی خلافت راشدہ ہی ہے کیونکہ آخری زمانہ میں قائم ہونے والی خلافت کے لئے ہی خلافت علی منہاج النبوۃ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور آخری زمانہ میں قائم ہونے والی خلافت علی منہاج النبوۃ سے مراد خلافت احمد یہ ہی ہے۔کیونکہ آخری زمانے کی قرآن کریم اور احادیث میں