نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 211 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 211

190 وعدہ کا دن ہے۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا ہوں اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہوکر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۶،۳۰۵) 66 پھر تھوڑا آگے چل کر فرمایا کہ:۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں، کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا ہوں سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے“۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ص۳۰۶) اس وصیت کے ساتھ جماعت کو یہ خوشخبری بھی سنائی:۔تم خدا کے ہاتھ کا بیج ہو جو دنیا میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک درخت ہو جائے گا“۔(رسالہ الوصیت۔روخانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس وصیت کے مطابق دنیا میں جو تو حید کا قیام ہونا تھا اور جماعت احمدیہ نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی جو منازل طے کرنی تھیں وہ ان مقدس وجودوں کے ذریعہ ظہور پذیر ہونا تھی جو خلافت علی منہاج نبوت پر فائز ہونے تھے۔پس قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ