نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 172 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 172

۱۵۱ اپنی مرضی سے معزول کر سکے۔اس لئے کہ یہ ایک مذہبی انتخاب تھا جو اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی کے ماتحت کیا گیا اور اس انتخاب میں الہی تصرف کا ہاتھ تھا اور جسے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہو اسے کوئی انسان معزول نہیں کرسکتا۔پس اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے عزل کو خود اپنے ہاتھ میں رکھا۔جب بھی وہ دیکھے خلیفہ بدلنے کی ضرورت ہے وہ خود اسے وفات دے دے گا اور اپنی مرضی اور تصرف کے مطابق امت مسلمہ کے ذریعہ نئے خلیفہ کا انتخاب کروا دے گا۔پس روحانی خلفاء بندوں کے ہاتھوں معزول نہیں ہو سکتے اور جو ایسا سمجھے اس کے اندر نفاق اور بے حیائی کا مادہ ایک خلیفہ کی زندگی میں نئی خلافت کے متعلق سازشیں کرنا یا منصوبے باندھنا یا باتیں پھیلانا یا اس ضمن میں کسی شخص کا نام لینا خواہ وہ شخص پسندیدہ ہو یا غیر پسندیدہ اسلامی تعلیم کے حد درجہ خلاف اور انتہائی بے شرمی اور بے حیائی کی بات ہے اور پاکباز مومن اس قسم کی منافقانہ اور خبیث نہ باتوں سے ہمیشہ پر ہیز کرتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس قسم کا وہم اور خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آتا اور اگر کسی منافق طبع کو اس قسم کی بات کرتے سنتے ہیں تو سختی سے ایسے شخص کی باز پرس کرتے ہیں۔(بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ اپریل ۱۹۶۴ ء ص ۲۷، ۲۹) خلافت سے دستبرداری جب قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ خلیفہ نبی کا قائمقام اور جانشین ہوتا ہے اور نیز یہ کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خلیفہ کا مشن بالکل وہی ہوتا ہے جو انبیاء کا ہوتا ہے۔اگر انبیاء ہر حال میں تاحیات اپنے منصب پر قائم اور فائز رہتے ہیں تو پھر یہ کیسے