نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 171
۱۵۰ حضرت خلیفہ امسح الثالث خلیفہ کی معزولی کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ :۔اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ان تمام جہانوں کا اصل اور حقیقی مالک تو خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور جس کے قبضہ اقتدار سے وہ باہر نہیں لیکن اس کی ملکیت کو اس نے ایک طور پر اور نیابت کے رنگ میں آگے بحیثیت مجموعی انسان کے سپرد کیا ہے۔پس اسلامی لحاظ سے ملکیت دو قسم کی ہے۔اصلی اور حقیقی ملکیت تو خدا تعالیٰ کی ہے مگر ظلی ملکیت اور تنفیذی حکومت بطور نائب کے بنی نوع انسان کی ہے۔پس چونکہ ملکیتیں دو قسم کی ہیں حقیقی اور ظلی۔اس لئے آگے نائب بنانے کے بھی دوہی طریق ہو سکتے ہیں۔ایک مالک کا بنایا ہوا نا ئب ہوگا یعنی نبی اللہ اور ایک وہ نائب ہوگا جسے نوع انسان نے اپنا نائب بنایا ہو یعنی حاکم وقت۔لیکن اسلام نے نیابت کی ایک تیسری صورت بھی پیش کی ہے اور وہ دونوں قسم کے مالکوں کی مشتر کہ نیابت پر دلالت کرتی ہے اور اسی کو اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہتے ہیں۔ایک جہت سے وہ مالک حقیقی کا بنایا ہوا نا ئب ہوتا ہے اور ایک جہت سے وہ ظلی مالکوں یعنی بندوں کا تسلیم کردہ حاکم ہوتا ہے۔پس خلافت کے متعلق اسلامی نظریہ یہ ہے کہ خلیفہ بناتا تو خدا ہی ہے لیکن اس انتخاب اور تعین میں وہ امت مسلمہ کو بھی اپنے ساتھ شریک کرتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انتخاب بالواسطہ ہوتا ہے اور یہ واسطہ وہ امت مسلمہ ہے جو مضبوطی کے ساتھ اپنے ایمانوں پر قائم اور اپنے ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بجالانے والی ہو۔یعنی امت مسلمہ کے دلوں پر تصرف کر کے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق خلیفہ کا انتخاب کرواتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جب خلیفہ کا انتخاب امت مسلمہ کی رائے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہو چکے تو پھر امت مسلمہ کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ اس خلیفہ کو