نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 173
۱۵۲ ممکن ہے کہ خلیفہ جو نبی کا حقیقی جانشین اور قائمقام ہوتا ہے وہ خلافت سے دستبرداری اختیار کرلے۔ایک حدیث بھی خلافت سے دستبردار نہ ہو سکنے کی تائید کرتی ہے۔حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق مسند احمد بن حنبل میں آنحضرت کا حضرت عثمان کے لئے یہ واضح ارشاد درج ہے کہ :۔إِنَّ اللَّهَ يَقَصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ اَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خِلْعِهِ فَلَا تَخْلَعُهُ أَبَدًا۔(مسند احمد بن حنبل جلدص۲۳۴۲۷) یعنی اے عثمان ! یقینا اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا۔اگر منافق اس قمیص کو اتارنے کی کوشش کریں تو ہر گز ہرگز نہ اتارنا۔پس یہی وجہ تھی کہ حضرت عثمان غنی نے شہادت تو قبول کر لی مگر منصب خلافت سے دستبرداری اختیار نہ کی۔جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ خلافت سے دستبرداری جائز نہیں۔حضرت امام حسن کی خلافت سے دستبرداری کا جواز اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلافت سے دستبرداری جائز نہیں تو پھر حضرت امام حسن جن کو حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شہادت کے بعد باقاعدہ طور پر خلیفہ کرلیا گیا تھا انہوں نے حضرت امیر معاویہ کے حق میں کیوں دستبرداری اختیا رکی؟ ا۔خلافت راشدہ اولیٰ کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی تھی کہ خلافت راشدہ ۳۰ سال تک قائم رہے گی۔اور اس کے بعد بادشاہت قائم ہو جائے گی۔(ترمذی وابوداؤد بحواله مشكوة كتاب الفتن فعل ثاني عن سفينة)