نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 162
۱۴۱ یہ آخری بارہویں امام غائب یا مہدی منتظر تسلیم کئے گئے ہیں۔یہ عباسی حکومت کی مشہور چھاؤنی سرَّ مَنْ رأی میں اپنے باپ کے ایک تہ خانہ میں غائب ہوئے اور اب تک غائب ہیں اور آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور دنیا میں ظلم و جور کو مٹائیں گے اور اسے عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ا۔لغت کی رو سے خلافت اور امامت ایک ہی منصب کے دو نام ہیں۔جیسا کہ عربی کی معروف لغت المنجد میں زیر لفظ ” خلف“ لکھا ہے:۔الْخِلَافَةُ : الْإِمَارَةُ ٢۔النِّيَابَةُ عَنِ الْغَيْرِ الْإِمَامَةُ۔یعنی خلافت کا مطلب امارت، نیابت اور امامت کے ہیں۔اسی طرح مصباح اللغات میں بھی خلافت کے معنی ”امامت کے لکھے ہیں۔پس لغت کی رو سے امامت کا لفظ بھی خلافت ہی استعمال ہوا ہے۔۲۔جہاں تک ان کے اس عقیدہ کی صحت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ خود حضرت علی اور ان کے بیٹوں نے خلفاء ثلاثہ کی بیعت کی اور ان کی خلافت کی تصدیق کی اور ہر معاملہ میں ان کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کی اور ان کا پورا پورا ساتھ دیا۔نیز خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے خلافت راشدہ کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔۔رہا مسئلہ خلافت اور امامت کا تو اس سلسلہ میں صرف اتنا عرض ہے کہ قرآن کریم، احادیث رسول نیز لغت سے ثابت ہو چکا ہے کہ ہر نبی اور ہر خلیفہ اپنی ذات میں امام بھی ہوتا ہے۔اَئِمَّةً يُهُدُونَ بِأَمْرِ رَبِّنَا میں ائمہ کا لفظ انبیاء کے لئے استعمال ہوا ہے۔