نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 161 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 161

۱۴۰ صغیرہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ نے نصوص کے ذریعے متعین کیا تھا“۔(بحوالہ اسلامی انسائیکلو پیڈیا از سید قاسم محمود الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور ) نیز فرقہ امامیہ کے نزدیک پہلے تین امام حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین با علام الہی آنحضرت کی طرف سے منصوص ہیں یعنی حضور نے ان کے حق میں وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد یہ تینوں یکے بعد دیگرے امام ہوں گے اور امت کی قیادت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔اس کے بعد ہر امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جانشین کے بارہ میں وصیت کرے کہ میرے بعد اہل بیت یعنی حضرت علی کی فاطمی اولاد میں سے فلاں امام ہوگا۔غرض شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کے نزدیک امامت اور دینی قیادت نص، وصیت اور وراثت کی بنا پر قائم ہوتی ہے۔اس بارہ میں امت مسلمہ کو انتخاب یا شوری کا کوئی حق نہیں۔شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ آنحضرت کو حکم تھا کہ وہ وفات سے قبل اپنی جانشینی کے لئے علی کے بارہ میں وصیت کر جائیں۔چنانچہ آپ نے حسب الحکم یہ اعلان فرمایا کہ میرے بعد علی امت مسلمہ کے امام اور قائد ہوں گے اس لئے علی وصی اللہ اور وصی الرسول اور خلیفہ بلا فصل ہیں اور ان کے بعد ان کی فاطمی اولا د بطریق وصیت ونص اس منصب پر فائز ہوتی چلی جائے گی مگر بارہویں امام پر یہ وصیت ختم ہے۔شیعہ اثنا عشریہ ائمہ منصوصہ کی مندرجہ ذیل ترتیب مانتے ہیں :۔حضرت علی ، امام حسن ، امام حسین، امام زین العابدین، امام محمد باقر ، امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام علی الرضا، امام محمد الجواد، امام علی الہادی، امام الحسن العسکری اور امام محمد بن الحسن العسکری۔