نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 156 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 156

۱۳۵ میں نے متواتر جماعت کو بتایا ہے کہ خلافت کی بنیاد محض اور محض اس بات پر ہے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ یعنی امام ایک ڈھال ہوتا ہے اور مومن اس ڈھال کے پیچھے سے لڑائی کرتا ہے۔مومن کی ساری جنگیں امام کے پیچھے کھڑے ہو کر ہوتی ہیں۔اگر ہم اس مسئلہ کو ذرا بھی بھلا دیں۔اس کی قیود کو ڈھیلا کر دیں اور اس کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیں۔تو جس غرض کے لئے خلافت قائم ہے۔وہ مفقود ہو جائے گی۔میں جانتا ہوں کہ انسانی فطرت کی کمزوریاں کبھی کبھی اسے اپنے جوش اور غصہ میں اپنے فرائض سے غافل کر دیتی ہیں۔پھر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کبھی انسان ایسے اشتعال میں آجاتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ میں مونہہ سے کیا کہہ رہا ہوں۔مگر بہر حال یہ حالت اس کی کمزوری کی ہوتی ہے نیکی کی نہیں اور مومن کا کام یہ ہے کہ کمزوری کی حالت کو مستقل نہ ہونے دے اور جہاں تک ہو سکے۔اسے عارضی بنائے۔بلکہ بالکل دور کر دے۔اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تد بیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے۔تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے۔اس کے پیچھے اٹھاتا ہے۔اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے۔اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے۔اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے۔اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کے لئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔“ (الفضل قادیان ۴ ستمبر ۱۹۳۷ء)