نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 157 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 157

۱۳۶ اسی طرح ایک دوسرے موقع پر فرمایا :۔ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اسے سمجھنا چاہئے کہ خلفاءخدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہنمائی اور دینی مسائل میں غور و فکر ہوتا ہے اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے اور اس کی رائے سے اختلاف اسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہ درست ہے۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دے کر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہےاسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے“۔منہاج الطالبین لیکچر حضرت مصلح موعود انوار العلوم جلد ۹ص ۱۶۲) پس اگر کبھی واجب الاطاعت خلیفہ کے احکام اور ارشادات کے ساتھ کسی چیز کا مقابلہ آپڑے۔تو پھر تمام فرمانبرداریوں اور اطاعتوں کا خاتمہ۔تمام عہدوں اور شرطوں کی شکست تمام رشتوں اور تعلقات کا انقطاع تمام دوستیوں اور محبتوں کا اختتام ہوگا صرف اور صرف خلیفہ کی اطاعت مومن کے مدنظر ہوگی کیونکہ اس اطاعت کی مخالفت میں کوئی اطاعت نہ ہوگی۔اس وقت نہ باپ باپ ہے نہ افسر افسر ہے۔نہ بھائی بھائی ہے۔نہ دوست دوست ہے نہ رشتہ رشتہ دار ہے کیونکہ سب رشتے ٹوٹ گئے۔سب تعلقات منقطع ہو گئے۔رشتہ دراصل ایک ہی تھا اور یہ سب رشتے اسی ایک رشتہ کی خاطر تھے۔پس خلیفہ کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور جو خدا کی اطاعت کا جوا اپنی گردن سے اتارنے کی کوشش کرتا ہے وہ دین ودنیا میں ناکام و نامرادر ہتا ہے۔