نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 155 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 155

۱۳۴ خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے مونہہ سے کوئی لفظ نکلے۔اس وقت سب سکیموں سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو۔اس وقت تک سب خطبات رائگاں۔تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ خلیفہ وقت جو کچھ کہتا ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے اگر تو وہ بجھتی ہے کہ خلیفہ نے جو کچھ کہا وہ غلط کہا اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں۔ان کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو سمجھا ئیں اور اس سے ادب کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں۔لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے۔تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ اس طرح کام کریں جس طرح ہاتھ دماغ کی متابعت میں کام کرتا ہے۔ہاتھ کبھی دماغ کو سمجھاتا بھی ہے کہ ایسانہ کرو، مثلاً دماغ کہتا ہے فلاں جگہ مکامارو ہاتھ مکہ مارتا ہے تو آگے وہ ذرہ سی سختی محسوس کرتا ہے اور ہاتھ کو درد ہوتا ہے۔اس پر دماغ سے کہتا ہے کہ اس جگہ مکہ نہ مروائیں۔یہاں تکلیف ہوتی ہے اور دماغ اس کی بات مان لیتا ہے۔اسی طرح جماعت میں سے ہر شخص کا حق ہے کہ اگر وہ خلیفہ وقت سے کسی بات میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ اسے سمجھائے اور اگر اس کے بعد بھی خلیفہ اپنے حکم یا اپنی تجویز کو واپس نہیں لیتا تو اس کا کام ہے کہ وہ فرمانبرداری کرے اور یہ تو دینی معاملہ ہے۔دنیوی معاملات میں بھی افسروں کی فرمانبرداری کے تاریخ میں ایسے ایسے واقعات آتے ہیں کہ انہیں پڑھ کر طبیعت سرور سے بھر جاتی ہے۔اسی طرح ایک دوسرے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:۔الفضل قادیان ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء)