نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 154
۱۳۳ خاموشی اختیار کر لی جائے۔نہ تو اس امر کو عوام الناس میں زیر بحث لانے کی اجازت ہے اور نہ ہی خلیفہ وقت کے ساتھ بحث و جدال کا طرز عمل اپنا یا جائے بلکہ تسلی نہ ہونے کی صورت میں بھی خاموشی اختیار کر لی جائے۔اس سلسلہ میں بھی حضرت شاہ اسمعیل شہید ہماری راہنمائی فرماتے ہیں:۔امام کا حکم نص حکمی ہے۔یعنی جس وقت مجہتدین کا اجتہاد اور قیاس آراؤں کا قیاس نص قطعی کے مقابل ہوتا ہے تو بیشک پایۂ اعتبار سے ساقط ہو جاتا ہے۔یعنی مذکورہ امور پر مخالفت نص کی صورت میں ہرگز قابل عمل نہیں رہتا۔ایسے ہی جب مذکورہ امور امام یا اس کے نائب کے حکم کے متعارض ہوں تو پایۂ اعتبار سے ساقط ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جس وقت مواضع اختلاف اور مسائل اجتہاد میں امام کا حکم دو جانب میں سے ایک جانب متوجہ ہو تو ہر مجتہد ، مقلد، عالم، عامی ، عارف اور غیر عارف پر واجب العمل ہوگا۔کسی کو اس کے ساتھ اپنے اجتہاد یا مجتہدین سابقین کے اجتہاد یا اپنے الہام یا شیوخ متقدمین کے الہام سے تعرض نہیں ہوسکتا۔جو کوئی حکم امام کی مخالفت کرے اور مذکورۃ الصدرا مور کے خلاف عمل کرے تو بیشک عند اللہ عاصی اور گنہ گار ہے اور عذر اس کا حضور رب العالمین وحضور انبیائے مرسلین و مجہتدین میں قابل قبول نہ ہوگا اور یہ مسئلہ اجماعی ہے کہ اہل اسلام سے کسی کو اس کے ساتھ اختلاف نہیں ہے“۔منصب امامت ص ۱۴۶، ۱۴۷- از شاہ اسمعیل شہید ایڈیشن دوم ۱۹۶۹ء نقوش پریس لاہور ) خلیفہ وقت کے ساتھ اختلاف خلیفہ وقت کے ساتھ اختلاف رکھنے کے بارہ میں حضرت مصلح موعود ارشاد فرماتے ہیں:۔