نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 153 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 153

۱۳۲ خم نہ کیا جائے تو کوئی جماعت جماعت نہیں رہ سکتی۔پس خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور تم بھی غلطی کر سکتے ہو۔مگر فرق یہی ہے کہ خلیفہ کی خطرناک غلطی کی خدا تعالیٰ اصلاح کر دے گا۔مگر آپ لوگوں سے خدا کا یہ وعدہ نہیں ہے“۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء) بعض لوگوں کے نزدیک خلیفہ وقت کی غلطی کا امکان یا کسی خلیفہ سے اجتہادی یا سیاسی امر میں کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس میں اس کی اطاعت واجب نہیں۔اگر کبھی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے تو پھر بھی خلیفہ کی اطاعت لازم ہے۔چنانچہ حضرت شاہ اسمعیل شہید منصب امامت میں تحریر کرتے ہیں:۔اسی بنا پر علمائے امت نے اطاعت امام کو غیر منصوصہ مقام میں صحت قیاس پر موقوف نہیں رکھا بلکہ اس کی اطاعت کو باوجود اس کے ضعیف قیاس کے بھی واجب جانا ہے اور اس کے مخالف کو اگر چہ اس کا قیاس امام کے قیاس سے اظہر اور قوی ہو، جائز نہیں رکھا اور اس میں راز یہی ہے کہ اس کا حکم بذاتہ اصول دین سے ایک اصل ہے اور ادلہ شرعیہ سے ایک دلیل ہے جو صحیح قیاس سے قوی ہے۔اگر چہ فی الحقیقت کسی اور کے قیاس سے مستنبط ہو۔لیکن دوسرے کا قیاس اگر چہ صیح ہو ننی ہے اور یہ حکم اگر چہ بنفس الامر قیاس سے مستند ہولیکن قطعی ہے۔مثال اس کی یہ ہے کہ اجماع صحت قطعیہ ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مستندا جماع نفس الامر میں ایک قیاس ہوتا ہے یا بر غیر مشہور اور وہ بھی ظنی ہے۔منصب امامت ص ۱۵۰،۱۴۹- از شاه اسمعیل شہید ایڈیشن دوم ۱۹۶۹ء نقوش پریس لاہور ) ہاں اگر خلیفہ وقت سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جو نص صریح کے خلاف ہو تو پھر بھی حکم یہ ہے کہ ادب کے ساتھ اس معاملہ کو خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کر کے