حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 32
حوادث طبعی یا عذاب الہی ترجمہ: اللہ تعالیٰ انہیں ایسی حالت میں عذاب نہیں دیتا کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔گزشتہ انبیاء کی تاریخ میں حضرت یونس کے عہد کا واقعہ اس نوع کی ایک نمایاں مثال ہے۔کہ عذاب الہی کی خبر دیئے جانے کے باوجود جب قوم نے استغفار سے کام لیا تو یہ غیر متبدل سنت اللہ قوم اور عذاب الہی کے درمیان حائل ہو گئی۔ساتویں امتیازی علامت عذاب الہی کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ عذاب اس وقت تک انتظار کرتا ہے۔جب تک نبی ہلاک ہونے والی بستی کو چھوڑ کر نہ چلا جائے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ ہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ۔(سورۃ الانفال: ۳۴) ترجمہ : اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز عذاب نہیں دے گا کہ تو ان کے اندر موجود ہو۔ظاہر بات ہے کہ حوادث کسی کا انتظار نہیں کرتے۔پس وہ حوادث جو کسی خاص وجود یا نیک لوگوں کی خاطر رکے رہیں اور اس بات کا انتظار کرتے رہیں کہ وہ ہلاک ہونے والی بستی کو چھوڑیں تو پھر یہ سر گرم عمل ہوں۔مذہبی اصطلاح میں ایسے حوادث کو عذاب الہی کہا جاتا ہے۔اس جہت سے جب ہم اس سوال پر نظر ڈالتے ہیں کہ انبیاء اور ان کی قومیں کس طرح عذاب کے چنگل سے بچ گئیں تو اس کا ایک جواب یہ سامنے آتا ہے کہ یا تو وقت سے پہلے خبر دار ہونے کی بناء پر انبیاء اپنے ساتھیوں کو لے کر ہلاک ہونے والی جگہوں کو چھوڑ چکے تھے یا خود ان کی قوموں نے انہیں اپنے آبائی وطنوں سے جلا وطن کر دیا تھا۔پس عذاب الہی اس وقت آیا جب وہ ان بستیوں میں موجود نہ تھے۔یہاں ضمناً اس اعتراض کا ذکر بھی بے جانہ ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مخالفین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ زلزلہ کے وقت کیوں بستی کو چھوڑ کر باہر باغات میں خیمہ زن 32